مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

3 رن ریٹ فارمولے: درست نتیجہ کیسے نکالیں

کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی طریقہ کل رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ میں بیٹنگ رن ریٹ سے حریف کا رن ریٹ منہا کیا جاتا ہے۔ پچ رپورٹ پاکستان کے قارئین کے لیے ٹی ٹوئنٹی، ایک...

21 اکتوبر، 2026 5 min read
3 رن ریٹ فارمولے: درست نتیجہ کیسے نکالیں
❦

3 رن ریٹ فارمولے: درست نتیجہ کیسے نکالیں

کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی طریقہ کل رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ میں بیٹنگ رن ریٹ سے حریف کا رن ریٹ منہا کیا جاتا ہے۔ پچ رپورٹ پاکستان کے قارئین کے لیے ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور لیگ مقابلوں میں یہی عملی اصول واضح کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹٫۰۰ بنتا ہے، جبکہ ۱۵ اوورز میں ۱۲۰ رنز کا رن ریٹ ۸٫۰۰ ہے۔ اگر ٹیم ۲۰ اوورز کے میچ میں ۱۵ اوورز پر آل آؤٹ ہو جائے تو بعض مقابلہ جاتی اصولوں کے تحت ۱۵ نہیں بلکہ مکمل ۲۰ اوورز استعمال ہوں گے۔ بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے نظرثانی شدہ اوور اور ہدف دیکھے جاتے ہیں۔ فوری عملی اصول یہ ہے کہ پہلے گیندوں کو درست اوورز میں بدلیں، پھر فارمولا لگائیں۔

Sweet Bonanza Xmas · Free demo

ایک نظر میں 3 اہم رن ریٹ فارمولے

رن ریٹ کی درجہ بندی استعمال کے مقصد کے لحاظ سے کی گئی ہے: عام اسکور کی رفتار، ٹورنامنٹ کی پوزیشن، اور ہدف کے تعاقب کی ضرورت۔ بنیادی رن ریٹ سب سے آسان ہے، نیٹ رن ریٹ سب سے زیادہ فیصلہ کن، جبکہ مطلوبہ رن ریٹ براہ راست میچ کی حکمت عملی بتاتا ہے۔ کرکٹ کے اسکورکارڈ میں "اوور" کو محض اعشاریہ سمجھنا طالب علموں کی عام غلطی ہے؛ ۱۷٫۴ اوور دراصل ۱۷ اوور اور ۴ گیندیں ہیں، ۱۷٫۴ مکمل اوور نہیں۔

  1. بنیادی رن ریٹ: کل بنائے گئے رنز ÷ مکمل اوورز؛ فوری اسکور کی رفتار کے لیے۔
  2. نیٹ رن ریٹ: اوسط بنائے گئے رن ریٹ − اوسط دیے گئے رن ریٹ؛ گروپ جدول میں برابر پوائنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے۔
  3. مطلوبہ رن ریٹ: باقی ہدف ÷ باقی اوورز؛ تعاقب میں درکار رفتار جاننے کے لیے۔

A cricket scoreboard showing runs, overs, required rate, and a tense evening match atmosphere

پچ رپورٹ پر میچ کے جائزے، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور پی ایس ایل کی حکمت عملی پڑھتے وقت پہلے یہ طے کریں کہ سوال کس رن ریٹ سے متعلق ہے۔ عام رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ کو ایک سمجھنا درست نہیں، کیونکہ پہلے میں صرف ایک اننگز کی رفتار شامل ہوتی ہے، جبکہ دوسرے میں حریف کو دیے گئے رنز بھی شامل ہوتے ہیں۔ کرکٹ کے بنیادی اعداد و شمار کی مکمل رہنمائی

مزید مثالیں دیکھنے کے لیے اس مختصر حساب کو ذہن میں رکھیں: ۳۰۰ رنز کو ۵۰ اوورز سے تقسیم کرنے پر ۶٫۰۰ آتا ہے، اور ۲۵۰ رنز کو ۵۰ اوورز سے تقسیم کرنے پر ۵٫۰۰۔ فرق ۱٫۰۰ ہے، یعنی پہلی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ مثبت ایک بنتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے مقابلہ جاتی ضوابط اور مریم وِکی میں درج عمومی تعریفیں بھی اسی حسابی منطق پر قائم ہیں۔

اگر آپ اسکورکارڈ پڑھنے کی رفتار بہتر بنانا چاہتے ہیں تو پہلے بنیادی فارمولے سے آغاز کریں۔

مزید جانیں

نمبر 1: بنیادی رن ریٹ کیسے نکالیں؟

بنیادی رن ریٹ نکالنے کے لیے کل بنائے گئے رنز کو استعمال ہونے والے مکمل اوورز سے تقسیم کریں؛ ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا نتیجہ ۹٫۰۰ رنز فی اوور ہے۔ یہ پیمانہ کسی ایک اننگز، پاور پلے یا ہدف کے تعاقب کی رفتار بیان کرتا ہے، مگر اس میں حریف کی بیٹنگ شامل نہیں ہوتی۔ درست جواب کے لیے اوورز اور گیندوں کی تبدیلی لازماً چیک کریں۔

فارمولا یہ ہے:

رن ریٹ = بنائے گئے کل رنز ÷ کھیلے گئے اوورز

مثال کے طور پر پاکستان اگر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بناتا ہے تو حساب ۱۸۰ ÷ ۲۰ = ۹٫۰۰ ہوگا۔ اگر بھارت ۲۰ اوورز میں ۱۶۰ رنز بنائے تو اس کا رن ریٹ ۸٫۰۰ ہوگا۔ یہاں پاکستان کی رفتار بھارت سے ایک رن فی اوور زیادہ ہے، لیکن اسے "نیٹ رن ریٹ" کہنا غلط ہوگا، کیونکہ نیٹ رن ریٹ کے لیے ٹیم کے اپنے بولنگ اعداد و شمار بھی درکار ہیں۔ اسی طرح ۱۰ اوورز میں ۷۵ رنز کا رن ریٹ ۷٫۵۰ ہے، نہ کہ ۷۵؛ رن ریٹ ہمیشہ فی اوور رفتار ہے۔

گیندوں کو اوورز میں بدلنے کا درست طریقہ

اگر اسکورکارڈ میں ۱۲ اوور اور ۳ گیندیں لکھی ہوں تو اسے ۱۲٫۳ نہیں سمجھا جائے گا۔ کرکٹ میں ایک اوور ۶ قانونی گیندوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ۱۲ اوور اور ۳ گیندیں = ۷۵ گیندیں، اور اعشاری اوور = ۷۵ ÷ ۶ = ۱۲٫۵ اوور۔ ۹۰ رنز کو ۷۵ گیندوں سے تقسیم کر کے فی گیند رفتار ۱٫۲ رنز آئے گی، جسے ۶ سے ضرب دے کر ۷٫۲۰ رنز فی اوور حاصل ہوں گے۔

یہی نکتہ اسکورکارڈ کے فوری حساب میں سب سے زیادہ غلطی پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۳٫۴ اوور کا مطلب ۲۳ اوور اور ۴ گیندیں، یعنی ۱۴۲ گیندیں ہے؛ اسے ۲۳٫۴ سے تقسیم کرنا ریاضی کے لحاظ سے غلط ہوگا۔ عملی اصول یہ ہے کہ پہلے ہر اوور کو ۶ گیندوں میں تبدیل کریں، باقی گیندیں شامل کریں، پھر رنز کو کل گیندوں سے تقسیم کر کے ۶ سے ضرب دیں۔ اسکورکارڈ میں گیندوں اور اوورز کی تشریح

نمبر 2: نیٹ رن ریٹ کب اور کیسے نکالا جاتا ہے؟

نیٹ رن ریٹ پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم کے اوسط بنائے گئے رن ریٹ اور اوسط دیے گئے رن ریٹ کا فرق ہے؛ ۶٫۰۰ کی بیٹنگ رفتار اور ۵٫۰۰ کی بولنگ رفتار سے نتیجہ +۱٫۰۰ بنتا ہے۔ یہ عام طور پر گروپ مرحلے میں برابر پوائنٹس والی ٹیموں کی درجہ بندی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک میچ کی جیت یا شکست سے زیادہ اہم پورے مقابلے کے مجموعی رنز اور اوورز ہوتے ہیں۔

فارمولا:

نیٹ رن ریٹ = (کل بنائے گئے رنز ÷ کل کھیلے گئے اوورز) − (کل دیے گئے رنز ÷ کل کرائے گئے اوورز)

مثال:

  • ٹیم الف نے ۵۰ اوورز میں ۳۰۰ رنز بنائے: ۳۰۰ ÷ ۵۰ = ۶٫۰۰
  • ٹیم الف نے حریفوں کو ۲۵۰ رنز دیے: ۲۵۰ ÷ ۵۰ = ۵٫۰۰
  • نیٹ رن ریٹ: ۶٫۰۰ − ۵٫۰۰ = +۱٫۰۰

اگر کسی دوسری ٹیم کا بیٹنگ رن ریٹ ۵٫۰۰ اور دیے گئے رنز کا ریٹ ۶٫۰۰ ہو تو اس کا نیٹ رن ریٹ −۱٫۰۰ ہوگا۔ منفی عدد کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیم لازماً ہر میچ ہاری؛ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مجموعی اوسط میں اس نے حریفوں سے کم رفتار سے رنز بنائے یا زیادہ رفتار سے رنز دیے۔

آل آؤٹ ہونے کا اہم اصول

اگر ۵۰ اوور کے میچ میں کوئی ٹیم ۳۰ اوورز میں ۱۵۰ رنز پر آل آؤٹ ہو جائے، تو کئی سرکاری ٹورنامنٹ ضوابط میں اس کی بیٹنگ رفتار ۱۵۰ ÷ ۵۰ = ۳٫۰۰ شمار کی جاتی ہے، نہ کہ ۱۵۰ ÷ ۳۰ = ۵٫۰۰۔ اس اصول کا مقصد یہ ہے کہ جلد آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کو مصنوعی طور پر بہتر رن ریٹ نہ ملے۔ تاہم اگر ٹیم آل آؤٹ نہیں ہوئی اور ہدف مکمل ہونے پر اننگز ختم ہوئی، تو عموماً حقیقی استعمال شدہ اوورز شمار کیے جاتے ہیں۔

یہاں ایک باریک مگر اہم فرق ہے: بولنگ اننگز میں اگر حریف نے ۲۰ اوورز سے پہلے ہدف حاصل کر لیا تو حریف کے استعمال کردہ اوورز شمار کیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ آل آؤٹ نہیں ہوا۔ اس لیے ۳۸ گیندوں میں ۷۸ رنز کا تعاقب ۲۰ اوورز کے بجائے ۶٫۲۰ اوورز کے حساب سے کیا جائے گا؛ ۷۸ ÷ ۶٫۳۳ نہیں، کیونکہ ۳۸ گیندیں = ۶ اوور اور ۲ گیندیں = ۶٫۳۳۳ اوور۔ یہی عملی نکتہ عام آن لائن وضاحتوں میں اکثر مبہم رہتا ہے۔

Cricket analysts comparing tournament points tables and net run rate calculations on a large screen

بارش سے متاثرہ میچ میں نتیجہ نکالتے وقت اصل اوورز کے بجائے مقابلے کے ضابطے میں منظور شدہ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کا ہدف اور وسائل دیکھے جاتے ہیں۔ اگر میچ بے نتیجہ ختم ہو تو عموماً اس کا اسکور نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، مگر حتمی فیصلہ متعلقہ ٹورنامنٹ کے ضابطے سے ہوگا۔ بارش سے متاثرہ کرکٹ میچ کے اصول

نیٹ رن ریٹ کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ وکٹوں کی تعداد براہ راست فارمولے میں شامل ہوتی ہے۔ عام نیٹ رن ریٹ میں وکٹیں شامل نہیں ہوتیں؛ ۹ وکٹ سے جیت اور ۱ وکٹ سے جیت کا اثر رنز اور اوورز کے ذریعے آتا ہے، وکٹ کے الگ عدد سے نہیں۔ اسی لیے جدول پڑھتے وقت پوائنٹس، رن ریٹ اور میچ کے ضابطے تینوں کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔

ٹورنامنٹ کے مجموعی حساب کی ایک صاف فہرست یہ ہے:

  1. تمام مکمل میچوں کے بنائے گئے رنز جمع کریں۔
  2. بیٹنگ کے تمام قابلِ اطلاق اوورز یا گیندیں جمع کریں۔
  3. دیے گئے رنز اور بولنگ کے قابلِ اطلاق اوورز جمع کریں۔
  4. دونوں اوسط رفتاریں نکال کر پہلی میں سے دوسری منہا کریں۔
  5. آخر میں ضابطے کے مطابق اعشاریہ تک محدود کریں۔

نیٹ رن ریٹ کی تفصیل جدول میں سمجھنے کے لیے یہ اگلا قدم مفید ہے۔

مزید جانیں

نمبر 3: مطلوبہ رن ریٹ تعاقب میں کیوں اہم ہے؟

مطلوبہ رن ریٹ باقی ہدف کو باقی اوورز سے تقسیم کر کے نکالا جاتا ہے؛ اگر ۶۰ رنز ۵ اوورز میں درکار ہوں تو شرح ۱۲٫۰۰ رنز فی اوور ہوگی۔ یہ نیٹ رن ریٹ نہیں، بلکہ جاری تعاقب کی موجودہ ضرورت ہے۔ کپتان، بلے باز اور تجزیہ کار اسے ہر اوور کے بعد دوبارہ نکالتے ہیں، کیونکہ وکٹ، باؤنڈری اور ڈاٹ گیندیں عدد کو فوراً بدل دیتی ہیں۔

فارمولا:

مطلوبہ رن ریٹ = باقی رنز ÷ باقی اوورز

مثلاً سری لنکا کو ۲۰ اوورز میں ۱۷۰ رنز کا ہدف ملا اور ۱۵ اوورز کے بعد اسکور ۱۲۰ رنز ہے۔ باقی رنز ۵۰ اور باقی اوورز ۵ ہیں، لہٰذا مطلوبہ رن ریٹ ۵۰ ÷ ۵ = ۱۰٫۰۰ ہوگا۔ اگر ایک اوور میں ۱۴ رنز بن جائیں تو باقی ہدف ۳۶ اور باقی اوورز ۴ ہوں گے؛ نئی شرح ۹٫۰۰ بنتی ہے۔ یہ حساب بیٹنگ کے فیصلے میں مدد دیتا ہے، مگر وکٹوں کی قدر الگ سے جانچنا ضروری ہے، کیونکہ ۱۲ رنز فی اوور کی ضرورت ۸ وکٹ باقی ہونے اور ۲ وکٹ باقی ہونے کی صورت میں یکساں خطرناک نہیں۔

مطلوبہ رن ریٹ اور موجودہ رن ریٹ کا فرق بھی عملی اشارہ دیتا ہے۔ اگر موجودہ رفتار ۸٫۵۰ اور مطلوبہ رفتار ۱۰٫۰۰ ہو تو ٹیم ہر اوور تقریباً ۱٫۵ رنز پیچھے ہے؛ اگر پاور پلے باقی نہیں اور اسپنرز کے دو اوور بچے ہیں تو حکمت عملی باؤنڈری کے بجائے سنگلز اور مخصوص اوورز کے حملے پر قائم کی جا سکتی ہے۔ بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی کے اعداد و شمار

رن ریٹ نکالتے وقت عام غلطیاں کیا ہیں؟

رن ریٹ کی سب سے عام غلطیاں اعشاری اوور، آل آؤٹ کے ضابطے، بے نتیجہ میچ اور ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے ترمیم شدہ اعداد سے متعلق ہیں۔ ۱۷٫۴ اوور کو ۱۷٫۴ مکمل اوور سمجھنا غلط ہے، جبکہ ۱۷ اوور اور ۴ گیندیں ۱۰۶ قانونی گیندیں بنتی ہیں۔ اسی طرح ہر بار ۲۰ اوور سے تقسیم کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ ہدف جلد مکمل ہونے یا آل آؤٹ ہونے کے الگ قواعد لاگو ہو سکتے ہیں۔

یہ چیک لسٹ محفوظ رکھیں:

  • گیندیں چیک کریں: ۱۲ اوور اور ۳ گیندیں = ۷۵ گیندیں۔
  • آل آؤٹ دیکھیں: مقررہ اوور پورے نہ ہونے پر مکمل کوٹا لاگو ہو سکتا ہے۔
  • میچ کی حیثیت دیکھیں: بے نتیجہ میچ عموماً مجموعی نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں ہوتا۔
  • بارش کا اثر دیکھیں: ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے بعد ترمیم شدہ ہدف اور وسائل اہم ہیں۔
  • وکٹ کو الگ رکھیں: عام نیٹ رن ریٹ میں وکٹ براہ راست فارمولے کا حصہ نہیں۔
  • راؤنڈنگ آخر میں کریں: ہر مرحلے پر اعشاریہ کاٹنے سے آخری نتیجہ بدل سکتا ہے۔

ایک اور عملی احتیاط یہ ہے کہ اسکورکارڈ کے "اوورز" خانے اور مقابلے کے سرکاری ضابطے دونوں دیکھیں۔ پی ایس ایل، آئی سی سی عالمی کپ یا مقامی لیگ میں عمومی فارمولا ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر بے نتیجہ میچ، ریزرو ڈے، ٹائی اور نظرثانی شدہ اننگز کے بارے میں انتظامی شق مختلف ہو سکتی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کھیل کے ضوابط کو حتمی حوالہ سمجھنا زیادہ محفوظ ہے، نہ کہ کسی غیر سرکاری جدول کے مختصر عدد کو۔

اعداد کے ساتھ غلطی کم کرنے کے لیے کیلکولیٹر میں پہلے گیندوں کو اعشاری اوور میں تبدیل کریں، پھر رنز تقسیم کریں، اور آخر میں نتیجہ دو اعشاری مقامات تک لکھیں۔ یہ چھوٹی سی پابندی پچ رپورٹ کے میچ تجزیے، پی ایس ایل جدول اور ٹی ٹوئنٹی پیش گوئی میں غیر ضروری تضاد ختم کرتی ہے۔

اپنے اگلے اسکورکارڈ پر یہ جانچ ضرور آزمائیں۔

مزید جانیں

کرکٹ میں رن ریٹ کے لیے کون سا فارمولا منتخب کریں؟

منتخب فارمولا سوال کے مقصد پر منحصر ہے: ایک اننگز کی رفتار کے لیے بنیادی رن ریٹ، جدول کی درجہ بندی کے لیے نیٹ رن ریٹ، اور جاری تعاقب کے لیے مطلوبہ رن ریٹ استعمال کریں۔ ایک ہی میچ میں تینوں اعداد درست ہو سکتے ہیں، مگر وہ مختلف معلومات دیتے ہیں۔ بہتر تجزیہ ہمیشہ فارمولا، اوور کی قسم، میچ کی حیثیت اور متعلقہ ضابطے کو ایک ساتھ دیکھتا ہے۔

مقصد فارمولا مثال
اننگز کی رفتار رنز ÷ اوورز ۱۸۰ ÷ ۲۰ = ۹٫۰۰
ٹورنامنٹ کی درجہ بندی بیٹنگ شرح − دی گئی رنز کی شرح ۶٫۰۰ − ۵٫۰۰ = +۱٫۰۰
ہدف کا تعاقب باقی رنز ÷ باقی اوورز ۶۰ ÷ ۵ = ۱۲٫۰۰

پچ رپورٹ کا مقصد صرف عدد دکھانا نہیں بلکہ اس کا مطلب واضح کرنا ہے۔ مثبت نیٹ رن ریٹ عموماً بہتر مجموعی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے، مگر یہ خود بخود اگلے مرحلے کی ضمانت نہیں؛ پوائنٹس، میچوں کی تعداد، ضابطہ اور ٹائی توڑنے کے اضافی اصول بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح بلند مطلوبہ رن ریٹ کو صرف جارحانہ شاٹس سے حل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وکٹیں محدود وسیلہ ہیں اور آخری پانچ اوورز کا منصوبہ پہلے سے بنانا پڑتا ہے۔

نتیجہ سیدھا ہے: رنز، قانونی گیندیں، میچ کا فارمیٹ اور مقابلے کا ضابطہ درست رکھیں؛ پھر رن ریٹ کا حساب قابلِ اعتماد ہوگا۔ کسی جدول میں +۰٫۷۵ یا −۱٫۲۰ دیکھ کر فوراً فیصلہ نہ کریں، پہلے معلوم کریں کہ عدد کتنے میچوں، کتنے اوورز اور کس نظرثانی شدہ ہدف سے بنا ہے۔

یہی وہ عادت ہے جو عام شائق اور سنجیدہ کرکٹ تجزیہ کار میں فرق پیدا کرتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ میں رن ریٹ کیا ہوتا ہے؟

جواب: رن ریٹ وہ اوسط رفتار ہے جس سے ٹیم فی اوور رنز بناتی ہے۔ اسے کل بنائے گئے رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کر کے نکالا جاتا ہے، مثلاً ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹٫۰۰ ہے۔ اگر اسکورکارڈ میں گیندیں دی گئی ہوں تو پہلے انہیں ۶ سے تقسیم کر کے اوورز میں تبدیل کریں۔ یاد رکھیں کہ رن ریٹ میں عام طور پر حریف کے رنز شامل نہیں ہوتے؛ حریف کی رفتار شامل کرنے پر حساب نیٹ رن ریٹ بن جاتا ہے۔

سوال: نیٹ رن ریٹ کیسے نکالتے ہیں؟

جواب: نیٹ رن ریٹ کے لیے ٹیم کا اوسط بیٹنگ رن ریٹ، اوسط بولنگ رن ریٹ سے منہا کریں۔ مثال کے طور پر ۳۰۰ رنز ÷ ۵۰ اوورز = ۶٫۰۰، جبکہ ۲۵۰ دیے گئے رنز ÷ ۵۰ اوورز = ۵٫۰۰؛ نتیجہ +۱٫۰۰ ہوگا۔ ٹورنامنٹ میں ایک میچ کے بجائے تمام قابلِ شمار میچوں کے رنز اور اوورز جمع کیے جاتے ہیں۔ آل آؤٹ، بارش اور بے نتیجہ میچ کے اصول متعلقہ لیگ یا آئی سی سی ضابطے سے ضرور چیک کریں۔

سوال: رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ میں کیا فرق ہے؟

جواب: رن ریٹ صرف ٹیم کی اپنی اسکورنگ رفتار بتاتا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ اس رفتار میں سے حریف کو دیے گئے رنز کی اوسط رفتار منہا کرتا ہے۔ ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹٫۰۰ ہے، لیکن نیٹ رن ریٹ نکالنے کے لیے حریف کے خلاف بولنگ کا عدد بھی چاہیے۔ بنیادی رن ریٹ ایک اننگز کے جائزے کے لیے مفید ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ گروپ جدول میں برابر پوائنٹس والی ٹیموں کی درجہ بندی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سوال: ۱۷٫۴ اوور کو حساب میں کیسے شامل کیا جاتا ہے؟

جواب: ۱۷٫۴ اوور کا مطلب ۱۷ اوور اور ۴ قانونی گیندیں ہے، یعنی کل ۱۰۶ گیندیں، نہ کہ ۱۷٫۴ مکمل اوور۔ درست اعشاری اوور ۱۰۶ ÷ ۶ = ۱۷٫۶۶۷ ہوگا۔ اگر ٹیم نے ۱۴۰ رنز بنائے تو رن ریٹ ۱۴۰ ÷ ۱۷٫۶۶۷، یعنی تقریباً ۷٫۹۲ بنتا ہے۔ اسکورکارڈ کی روایتی اوور notation کو عام اعشاری عدد سمجھنا سب سے عام حسابی غلطیوں میں شامل ہے۔

سوال: آل آؤٹ ہونے پر رن ریٹ کیسے بدلے گا؟

جواب: مقررہ اوور مکمل ہونے سے پہلے آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کے لیے کئی مقابلہ جاتی ضوابط میں مکمل مقررہ اوورز استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ۵۰ اوور کے میچ میں ۳۰ اوورز پر ۱۵۰ رنز کی اننگز کا قابلِ اطلاق بیٹنگ ریٹ ۱۵۰ ÷ ۵۰ = ۳٫۰۰ ہو سکتا ہے۔ اس اصول سے ٹیم کو جلد آل آؤٹ ہو کر مصنوعی طور پر بلند شرح حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حتمی فیصلہ ہمیشہ متعلقہ ٹورنامنٹ کے سرکاری قوانین کے مطابق کریں۔

سوال: بارش سے متاثرہ میچ میں نیٹ رن ریٹ کیسے نکالا جاتا ہے؟

جواب: بارش سے متاثرہ میچ میں عموماً ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے تحت نظرثانی شدہ اوور، ہدف اور قابلِ شمار اسکور استعمال کیے جاتے ہیں۔ اصل ۲۰ اوور کے بجائے اگر میچ ۱۵ اوور کا ہو جائے تو تعاقب اور کارکردگی کا تجزیہ نئے وسائل اور ہدف کے مطابق ہوگا۔ بے نتیجہ میچ اکثر نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، مگر ہر لیگ کا ضابطہ مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لیے پی ایس ایل یا آئی سی سی کے سرکاری مقابلہ جاتی قواعد کو غیر سرکاری کیلکولیٹر پر ترجیح دیں۔

سوال: کیا وکٹیں نیٹ رن ریٹ کے فارمولے میں شامل ہوتی ہیں؟

جواب: عام نیٹ رن ریٹ کے فارمولے میں وکٹوں کی تعداد براہ راست شامل نہیں ہوتی۔ حساب بنائے گئے رنز، دیے گئے رنز، بیٹنگ اوورز اور بولنگ اوورز سے بنتا ہے، اس لیے ۹ وکٹ سے جیت اور ۱ وکٹ سے جیت الگ وکٹ عدد کے ذریعے نہیں دکھائی جاتی۔ تاہم وکٹیں حکمت عملی اور میچ کے خطرے کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر مطلوبہ رن ریٹ کے تعاقب میں۔ اسی لیے جدول کے عدد کو میچ کی صورتِ حال سے الگ کر کے نہیں پڑھنا چاہیے۔

نیٹ رن ریٹ کے مکمل عملی خلاصے کے بعد تازہ پی ایس ایل جائزوں اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار کے لیے پچ رپورٹ سے جڑے رہیں۔

مزید جانیں

§
❦

پچ رپورٹ · Editorial Archive

متعلقہ مضامین