شائقین کے لیے کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون کی رہنمائی
کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کا فیصلہ قانون 36 کے تحت ہوتا ہے، اور اس کے لیے گیند کا قانونی ہونا، بلے باز کے جسم سے ٹکرانا، وکٹوں کا ممکنہ نشانہ بننا اور گیند کا پچ پر درست جگہ ٹپہ کھانا بنیادی شرائط ہیں...
شائقین کے لیے کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون کی رہنمائی
کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کا فیصلہ قانون 36 کے تحت ہوتا ہے، اور اس کے لیے گیند کا قانونی ہونا، بلے باز کے جسم سے ٹکرانا، وکٹوں کا ممکنہ نشانہ بننا اور گیند کا پچ پر درست جگہ ٹپہ کھانا بنیادی شرائط ہیں۔ یہ قانون پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت ہر بین الاقوامی کرکٹ میدان میں نافذ ہے، جبکہ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین اس کی اصل بنیاد ہیں۔ اگر گیند ٹانگ کے باہر پچ ہو، نو بال ہو، یا پہلے بلے سے لگے، تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے کے باوجود فیصلہ ممکن ہے، مگر صرف اس صورت میں جب بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہ کی ہو۔ قانون 36 کی سب سے اہم عملی بات یہ ہے کہ اپیل سے پہلے گیند، جسم اور وکٹوں کی ترتیب ذہن میں رکھیں؛ صرف پیڈ پر لگنا آؤٹ نہیں بنتا۔

پچ رپورٹ کے قارئین کے لیے پہلا اصول یہی ہے کہ ایل بی ڈبلیو کو محض جذباتی اپیل نہ سمجھیں۔ یہ ایک ترتیب وار قانونی امتحان ہے جس میں بولر، بلے باز، وکٹ کی پوزیشن، گیند کا زاویہ اور شاٹ کی نیت سب شامل ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور میریلیبون کرکٹ کلب کی اصطلاحات میں معمولی فرق تلاش کرنا آسان ہے، مگر بنیادی معیار ایک ہی رہتا ہے۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین قانون 36 کی تفصیلی عبارت فراہم کرتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے کھیلنے کے ضوابط مقابلے کی عملی تشریح دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور ٹیسٹ میں ایل بی ڈبلیو کا مرکزی قانون تبدیل نہیں ہوتا؛ صرف جائزے اور ٹیکنالوجی کے طریقۂ استعمال میں فرق آ سکتا ہے۔
مزید بنیادی پس منظر کے لیے یہ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی مکمل رہنمائی بھی دیکھیں۔
مزید واضح قانونی مثالیں سمجھنے سے پہلے یہ مختصر جائزہ مناسب ہے۔
اگر گیند کی سمت مشکوک ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
اگر گیند جسم سے لگنے کے بعد وکٹوں کو نشانہ بنا سکتی تھی، تو پہلے یہ دیکھیں کہ گیند کہاں پچ ہوئی اور بلے سے پہلے جسم کو لگی یا نہیں۔ ایل بی ڈبلیو کے لیے صرف گیند کا پیڈ پر لگنا کافی نہیں؛ قانون 36 کے تمام مراحل بیک وقت پورے ہونا ضروری ہیں۔ امپائر کا بنیادی جائزہ یہ ہوتا ہے کہ گیند نو بال تو نہیں تھی، وکٹوں کے سامنے جسم کا کون سا حصہ آیا، اور گیند کا متوقع راستہ کیا بنتا۔
قانونی ترتیب کو یوں یاد رکھیں:
- بولر نے قانونی گیند کرائی ہو؛ نو بال پر ایل بی ڈبلیو نہیں ہوتا۔
- گیند بلے یا پہلے پکڑے ہوئے بلے کے حصے سے نہ لگی ہو۔
- گیند جسم سے پہلے وکٹ کے سامنے یا متعلقہ قانونی لائن میں آ کر لگی ہو۔
- گیند نے وکٹ کے درمیان یا آف اسٹمپ کے باہر پچ کیا ہو، مگر ٹانگ کے باہر نہیں۔
- گیند وکٹوں سے ٹکرانے والی ہو، اگر جسم درمیان میں نہ آتا۔
- بلے باز نے گیند کھیلنے کی باقاعدہ کوشش کی یا نہیں، یہ آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند میں فیصلہ کن بن سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم باریک نکتہ ہے جسے کمزور وضاحتیں اکثر چھوڑ دیتی ہیں: اگر گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی اور بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، تو عام قانون کے تحت ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ لیکن اگر بلے باز نے شاٹ کی کوشش نہیں کی، تو دیگر شرائط پوری ہونے پر آؤٹ ممکن ہے۔ اسی لیے بابر اعظم، ویرات کوہلی یا جو روٹ جیسے بلے بازوں کے دفاعی انداز کا تجزیہ کرتے وقت صرف پیڈ سے رابطہ کافی ثبوت نہیں۔
اگر گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہو تو کیا فیصلہ ہوگا؟
آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ بلے باز کی شاٹ کھیلنے کی کوشش سے جڑا ہے۔ اگر بلے باز نے گیند کو مارنے کی کوشش کی، تو قانون عام طور پر ایل بی ڈبلیو کو روکتا ہے؛ اگر کوشش نہیں کی، تو گیند کے باقی قانونی تقاضے پورے ہونے پر امپائر انگلی اٹھا سکتا ہے۔ یہ شرط قانون 36 کی سب سے زیادہ غلط سمجھی جانے والی شقوں میں شامل ہے۔
مثلاً فرض کریں شاہین شاہ آفریدی نے دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف گیند آف اسٹمپ سے باہر ٹپائی، اور بلے باز نے پیڈ آگے کر دیا۔ اگر گیند وکٹوں سے ٹکرانے والی تھی اور بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہیں کی، تو اپیل کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر بلے باز نے ڈرائیو یا دفاعی شاٹ کی کوشش کی اور گیند پیڈ سے لگی، تو فیصلہ مختلف ہوگا۔ نیت کا اندازہ صرف بلے باز کے بیان سے نہیں، بلکہ بلے کی حرکت، جسم کی سمت، گھٹنے کے زاویے اور رابطے کے لمحے سے لگایا جاتا ہے۔
ڈی آر ایس کے نظام میں ہاک آئی یا بال ٹریکنگ یہ دکھاتی ہے کہ گیند کہاں پچ ہوئی، کہاں لگی اور آگے جا کر وکٹوں کو نشانہ بناتی یا نہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی امپائر کے ہر قانونی سوال کا خودکار جواب نہیں دیتی؛ شاٹ کھیلنے کی کوشش جیسے پہلو میں انسانی فیصلہ اہم رہتا ہے۔ ڈی آر ایس اور امپائر کے جائزے کی وضاحت اس فرق کو مزید کھولتا ہے۔
اگر آپ فیصلہ سازی کے اس نکتے کو مختصر جدول میں دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ خلاصہ کام آئے گا:
- آف اسٹمپ کے باہر پچ، شاٹ کی کوشش موجود: عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں۔
- آف اسٹمپ کے باہر پچ، شاٹ کی کوشش نہیں: دیگر شرائط پوری ہوں تو ایل بی ڈبلیو ممکن۔
- ٹانگ کے باہر پچ: ایل بی ڈبلیو نہیں۔
- بلے سے پہلے پیڈ پر رابطہ: ایل بی ڈبلیو ممکن، بشرطیکہ باقی شرائط پوری ہوں۔
اب اگلا قدم یہی ہے کہ فیصلہ کن رابطے کو درست زاویے سے سمجھا جائے۔

اگر گیند پیڈ اور بلے کے قریب لگے تو کیا جانچنا چاہیے؟
پیڈ اور بلے کے تقریباً ایک ساتھ گیند سے ملنے کی صورت میں فیصلہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ گیند پہلے کس چیز سے لگی۔ اگر گیند پہلے بلے، دستانے میں پکڑے ہوئے بلے یا بلے کے ساتھ جڑے ہاتھ کو چھو لے، تو ایل بی ڈبلیو نہیں بنتا؛ اگر پہلے جسم سے لگی، تو باقی شرائط پوری ہونے پر آؤٹ دیا جا سکتا ہے۔ یہی معمولی سا لمحہ ٹی وی ری پلے میں کئی زاویوں سے دکھایا جاتا ہے۔
یہاں ایک عملی مگر کم بیان کیا جانے والا نکتہ ہے: الٹرا ایج یا سنکو میٹر رابطے کی آواز دکھا سکتا ہے، لیکن ہر مقابلے میں اس ٹیکنالوجی کی دستیابی اور استعمال یکساں نہیں ہوتا۔ بھارت میں بی سی سی آئی کے تحت ہونے والے مقابلوں، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ٹیسٹ میچوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے محدود اوورز کے مقابلوں میں جائزے کے وسائل سیریز، مقام اور نشر کاری انتظام کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے شائقین کو اسکورکارڈ پر صرف "ایل بی ڈبلیو" دیکھ کر یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ ہر بار مکمل ٹیکنالوجی استعمال ہوئی تھی۔
امپائر کے لیے رابطے کی ترتیب جانچنے کا ایک مفید طریقہ یہ ہے:
- گیند کے پیڈ سے ٹکرانے سے عین پہلے بلے کا مقام دیکھیں۔
- دستانے اور بلے کے ملاپ کو الگ سمجھیں؛ ہاتھ میں پکڑا ہوا بلا قانونی طور پر بلے کا حصہ ہے۔
- ری پلے میں آواز، فریم اور گیند کی سمت کو ایک ساتھ دیکھیں۔
- پھر پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹ کرنے کی پیش گوئی کا جائزہ لیں۔
میریلیبون کرکٹ کلب کی قانونی تشریح اسی لیے اہم ہے کہ "بلے سے پہلے جسم کو لگنا" ایک شرط ہے، مکمل فیصلہ نہیں۔ ناتجربہ کار ناظرین اکثر پہلے رابطے کو آخری نتیجہ سمجھ لیتے ہیں؛ یہ عادت چھوڑنی ہوگی۔
ایل بی ڈبلیو میں کون سی عام غلطیاں سے بچنا چاہیے؟
ایل بی ڈبلیو کی عام غلطی یہ سمجھنا ہے کہ ہر پیڈ اپیل آؤٹ ہوتی ہے، حالانکہ نو بال، ٹانگ کے باہر پچنگ، بلے سے پہلے رابطہ، غلط امپیکٹ اور وکٹ سے باہر جانے والی گیند فیصلہ بدل دیتے ہیں۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ ناظرین شاٹ کی کوشش کو نظرانداز کرتے ہیں، خاص طور پر آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند میں۔ قانون جذباتی شور نہیں، ترتیب وار ثبوت دیکھتا ہے۔
ان غلط فہمیوں سے خاص طور پر بچیں:
- گیند ٹانگ کے باہر پچ ہوئی ہو تو رفتار یا بلے باز کی پوزیشن اسے ایل بی ڈبلیو نہیں بنا سکتی۔
- نو بال پر پیڈ سے وکٹیں ہٹنے کا امکان بھی ایل بی ڈبلیو نہیں بناتا۔
- گیند بلے اور پیڈ پر بیک وقت دکھائی دے تو پہلے رابطے کا سوال باقی رہتا ہے۔
- بلے باز کا آگے بڑھنا خودکار تحفظ نہیں؛ پچنگ اور امپیکٹ اب بھی جانچے جاتے ہیں۔
- ریورس سوئنگ میں گیند کے آخری لمحے کی سمت دیکھے بغیر فیصلہ کرنا غلط ہے۔
- امپائر کی انگلی اٹھنا حتمی معلوم ہو سکتا ہے، مگر جائزے کے نظام میں واضح تکنیکی غلطی پر فیصلہ بدلا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم فرق فیصلہ اور حکمت عملی کے درمیان ہے۔ حسن علی یا جسپریت بمراہ جیسے بولر بیٹر کو کریز میں روک کر پیڈ کو ہدف بنا سکتے ہیں، مگر بولنگ کا منصوبہ قانونی شرائط پوری ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ اسی طرح محمد رضوان یا رشبھ پنت کا جارحانہ قدم امپائر کو متاثر نہیں کرتا؛ صرف گیند کا قانونی راستہ اور رابطے کی ترتیب اہم ہے۔ سوئنگ، سیم اور بولنگ کی حکمت عملی اس تکنیکی تعلق کو بہتر انداز میں واضح کرتا ہے۔
تیس دن بعد کیا جانچنا چاہیے؟
تیس دن کی باقاعدہ مشق کے بعد کھلاڑی اور شائقین ایل بی ڈبلیو کے چھ فیصلوں کو الگ الگ نشان زد کریں: پچنگ، امپیکٹ، وکٹ ہٹنگ، نو بال، پہلے رابطے اور شاٹ کی کوشش۔ اس مدت کا مقصد قانون کو رٹنا نہیں، بلکہ ہر اپیل کو ایک ہی ترتیب میں دیکھنے کی عادت بنانا ہے۔ بہتر تجزیہ وہ ہے جو نامور کھلاڑی کے فیصلے اور مقامی میچ کے فیصلے پر ایک ہی معیار لاگو کرے۔
تیس دن کا عملی منصوبہ یوں ترتیب دیں:
- پہلے ہفتے میں قانون 36 پڑھیں اور نو بال و ٹانگ کے باہر پچنگ کی مثالیں الگ کریں۔
- دوسرے ہفتے میں پاکستان، بھارت اور انگلینڈ کے میچوں سے دس ایل بی ڈبلیو فیصلے دیکھیں۔
- تیسرے ہفتے میں ہر فیصلے سے پہلے اپنا اندازہ لکھیں، پھر امپائر اور ڈی آر ایس نتیجے سے موازنہ کریں۔
- چوتھے ہفتے میں اپنی تین مستقل غلطیاں نوٹ کریں، مثلاً امپیکٹ کو نظرانداز کرنا یا شاٹ کی کوشش غلط سمجھنا۔
یہ مشق خاص طور پر فینٹسی کرکٹ، میچ جائزے اور بولنگ کے اعدادوشمار پڑھنے والوں کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ ایل بی ڈبلیو صرف وکٹ کی ایک قسم نہیں؛ یہ بولر کی لائن، بلے باز کے فٹ ورک اور پچ کے رویے کا اشارہ بھی ہے۔ پچ رپورٹ میں کسی اسپنر کے ایل بی ڈبلیو امکانات پر بات کرتے وقت باؤنڈری، گیند کی رفتار اور بلے باز کے فرنٹ فٹ کا ذکر ہونا چاہیے، ورنہ تجزیہ صرف شور رہ جاتا ہے۔
قانون کی سمجھ کو روزمرہ میچ تجزیے میں شامل کرنے کے لیے یہ آخری رہنمائی بھی محفوظ کر لیں۔

آخر میں بات صاف ہے: ایل بی ڈبلیو کا درست فیصلہ چھ سوالوں کے جواب سے بنتا ہے، نہ کہ اپیل کی آواز سے۔ قانون 36 کو پچنگ، امپیکٹ، پہلے رابطے، نو بال، شاٹ کی کوشش اور وکٹ ہٹنگ کے حصوں میں تقسیم کریں، پھر ہر میچ میں وہی ترتیب دہرائیں۔ یہ عادت آپ کو پاکستان کرکٹ بورڈ، بین الاقوامی کرکٹ کونسل یا مقامی ٹورنامنٹ کے فیصلوں کو زیادہ سنجیدگی سے پڑھنے میں مدد دے گی۔ "فوری فیصلہ" ہمیشہ اچھا فیصلہ نہیں ہوتا؛ کبھی ایک سست ری پلے ہی اصل حقیقت دکھاتا ہے۔ پچ رپورٹ پر کرکٹ کے روزانہ جائزے، کھلاڑیوں کے اعدادوشمار، پی ایس ایل کوریج اور بیٹنگ و بولنگ حکمت عملی اسی قانونی بنیاد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے، کیونکہ شائقین کو محض نتیجہ نہیں، وجہ بھی درکار ہے۔
کیا آپ اپنی اگلی میچ ریویو کو زیادہ درست بنانا چاہتے ہیں؟ یہ بنیادی اصول ساتھ رکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون کیا ہے؟
جواب: ایل بی ڈبلیو اس وقت ممکن ہوتا ہے جب قانونی گیند بلے سے پہلے بلے باز کے جسم سے لگے، گیند وکٹ کے راستے میں ہو، اور قانون کی پچنگ و امپیکٹ شرائط پوری ہوں۔ گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے، ٹانگ کے باہر پچ نہیں ہونی چاہیے، اور گیند کو وکٹوں سے ٹکرانے والا ہونا چاہیے۔ اگر گیند پہلے بلے یا ہاتھ میں پکڑے ہوئے بلے سے لگی ہو تو ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔
سوال: ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ کیسے کیا جاتا ہے؟
جواب: امپائر پہلے نو بال، پچنگ، پہلے رابطے، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کی ترتیب جانچتا ہے۔ گیند ٹانگ کے باہر پچ ہو تو فیصلہ ختم ہو جاتا ہے، جبکہ آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے پر شاٹ کھیلنے کی کوشش اہم بن جاتی ہے۔ ڈی آر ایس میں بال ٹریکنگ، ری پلے اور بعض صورتوں میں رابطے کی آواز فیصلہ واضح کرنے میں مدد دیتی ہے۔
سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟
جواب: بولڈ میں گیند براہِ راست وکٹوں کو گرا دیتی ہے، جبکہ ایل بی ڈبلیو میں جسم گیند کو وکٹوں تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ ایل بی ڈبلیو کے لیے پچنگ، امپیکٹ، پہلے رابطے اور شاٹ کی کوشش جیسی اضافی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ بولڈ کے لیے یہ شرائط درکار نہیں، لیکن گیند کا نو بال نہ ہونا دونوں صورتوں میں اہم رہتا ہے۔
سوال: اگر گیند ٹانگ کے باہر پچ ہو تو کیا ایل بی ڈبلیو ہوگا؟
جواب: نہیں، ٹانگ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ یہ شرط گیند کی رفتار، اسپن، بلے باز کی پوزیشن یا وکٹ سے ممکنہ ٹکراؤ سے تبدیل نہیں ہوتی۔ اگر گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہو تو شاٹ کی کوشش دیکھی جاتی ہے، مگر ٹانگ کے باہر پچنگ ایل بی ڈبلیو کے لیے بنیادی رکاوٹ ہے۔
سوال: اگر گیند بلے اور پیڈ دونوں سے ایک ساتھ لگے تو کیا ہوگا؟
جواب: فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ گیند پہلے بلے سے لگی یا جسم سے۔ اگر رابطہ پہلے بلے، دستانے میں پکڑے ہوئے بلے یا بلے سے جڑے ہاتھ سے ہوا تو ایل بی ڈبلیو نہیں بنتا؛ اگر پہلے جسم سے لگی تو باقی شرائط کے تحت آؤٹ ممکن ہے۔ ٹی وی ری پلے، الٹرا ایج اور مختلف کیمرہ زاویے اس ترتیب کا اندازہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔
سوال: کیا نو بال پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ دیا جا سکتا ہے؟
جواب: نہیں، نو بال پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ نہیں دیا جا سکتا۔ امپائر پہلے گیند کی قانونی حیثیت دیکھتا ہے، اس لیے بعد میں پیڈ، امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ کی تمام شرائط پوری ہونے کے باوجود فیصلہ ناٹ آؤٹ رہے گا۔ نو بال کے بعد گیند سے رنز، بائی یا دیگر ممکنہ نتائج الگ قوانین کے تحت شمار کیے جا سکتے ہیں۔
سوال: ایل بی ڈبلیو قانون سیکھنے کے لیے تیس دن کا منصوبہ کیوں مفید ہے؟
جواب: تیس دن کا منصوبہ شائقین کو ہر اپیل کو ایک ہی قانونی ترتیب میں جانچنے کی عادت دیتا ہے۔ پہلے قانون 36 پڑھیں، پھر پاکستان، بھارت اور انگلینڈ کے میچوں سے کم از کم دس فیصلے دیکھ کر اپنا اندازہ سرکاری نتیجے سے ملائیں۔ آخر میں پچنگ، امپیکٹ، پہلے رابطے اور شاٹ کی کوشش میں اپنی بار بار ہونے والی غلطیاں نوٹ کریں۔
اگر آپ قانون، اعدادوشمار اور میچ تجزیے کو ایک جگہ پڑھنا چاہتے ہیں تو پچ رپورٹ کی روزانہ کرکٹ کوریج سے فائدہ اٹھائیں۔
پڑھنے کے لیے شکریہ۔
پچ رپورٹ · Editorial Archive